| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن عائش سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا ۱؎ رب نے پوچھا کہ فرشتے مقرّب کس چیز میں جھگڑتے ہیں ۲؎ میں نے عرض کیا مولٰی تو ہی جانے تب رب نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی۳؎ تو جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب میں نے جان لیا۴؎ اور یہ آیت تلاوت کی ہم یونہی ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے ملک دکھاتے ہیں تاکہ وہ یقین والوں میں سے ہوجائیں ۵؎ دارمی نے مرسلًا روایت کیااورترمذی کی روایت اسی کی مثل ہے انہی سے۔ ۱؎ یعنی اس وقت میری اپنی صورت بہت اچھی تھی نہ کہ خدا کی جیسے کہا جاتا ہے کہ میں اچھے کپڑوں میں حاکم سے ملا،یعنی
شرح
ملاقات کے وقت میرے کپڑے اچھے تھے،ورنہ رب تعالٰی صورت سے پاک ہے۔خیال رہے کہ حضو ر انورصلی اللہ علیہ وسلم کا ہم میں آنا بشری صورت میں ہے،اور رب سے ملنا نوری صورت میں۔انسان کا گھر کا لباس اورہوتا ہے اور کچہری کا اور،یہ غالبًا معراج کے واقعہ کا ذکر ہے۔بعض لوگوں نے خواب کا دیداربتایا ہے مگر پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔اس لیے دیدار الٰہی ثابت ہوا۔حق یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے ان ہی آنکھوں سے رب کا دیدارکیا۔رب کا فرمانا:"لَا تُدْرِکُہُ الۡاَبْصٰرُ"دیدار کی نفی نہیں کررہا بلکہ ادراک اور احاطے کی،اس حدیث کی تائید آیت کریمہ"مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی" فرمارہی ہے۔دیدار الٰہی کی پور بحث ہماری کتاب "شان حبیب الرحمن" میں دیکھو۔ ۲؎ یعنی وہ کون سے اعمال ہیں جنہیں لے جانے اوربارگاہ الٰہی میں پیش کرنے میں فرشتے جھگڑتے ہیں وہ کہتا ہے میں لے جاؤں اور یہ کہتا ہے میں۔اس جملے کی اوربھی توجہیں ہیں مگر یہ قوی۔ ۳؎ یعنی رب نے اپنی رحمت کے ہاتھ کو میری پشت پر رکھا اوراس کا فیضان میرے سینہ اور دل پرپہنچا۔ ۴؎ مرقاۃ نے فرمایا کہ یہ حدیث حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسعت علم کی کھلی دلیل ہے،رب نے حضور علیہ السلام کو ساتوں آسمانوں بلکہ اوپر کی تمام چیزوں اورساتوں زمینوں اوران کے نیچے کی ذرہ ذرہ اور قطرے قطرے بلکہ مچھلی اور بیل جن پر زمین قائم ہے ان سب کا علم کُلّی عطا فرمایا۔شیخ نے فرمایا کہ اس سے مراد تمام کلی جزئی علوم کا عطا فرمانا ہے۔خیال رہے کہ اﷲ نے اپنے حبیب کو گذشتہ موجودہ اور تاقیامت ہونے والی ہر چیز کا علم دیا کیونکہ زمین پرلوگوں کے اعمال اور آسمان پر ان اعمال کے لئے فرشتوں کے یہ جھگڑے تاقیامت ہوتے رہیں گےجنہیں حضور علیہ السلام آج آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ا س حدیث کی تائید قرآن کی بہت سی آیات کررہی ہیں،جن آیات میں علم کی نفی ہے وہاں علم ذاتی مراد ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔ ۵؎ یعنی جیسے اﷲ نے اپنے خلیل کو ملکوت دکھائے ایسے ہی مجھے۔معلوم ہوا کہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف مسئلے ہی نہیں بتائے گئے تھے۔مسئلے تو مولویوں کو بھی بتادیئے جاتے ہیں بلکہ ساری خدائی دکھائی گئی تھی،ورنہ حضور علیہ السلام اس آیت سے دلیل نہ پکڑتے۔