۱؎ اس سے مرادناجائز آراستگی ہے،جیسے فوٹوؤں اورتصویروں سے سجانایافخریہ آرائش مراد ہے جو اﷲ تعالٰی کے لیے نہ ہو۔بہر حال جائز زینت جو اخلاص کے ساتھ ہوباعث ثواب ہے۔
۲؎ یعنی جیسے عیسائی،یہودی اپنی عبادت گاہوں کوفوٹوؤں اورقد آدم آئینوں سے سجاتے ہیں،قیامت کے قریب مسلمان بھی مسجدوں کو ان سے آراستہ کریں گے،ورنہ مسجدکی زینت سنت صحابہ ہے۔چنانچہ عمر فاروق نے مسجدنبوی شریف کو مزین کیا،پھرعثمان غنی نے اس کی دیواریں چونے گچ سے خوب نقْشیں بنائیں،چھت میں ساگوان لکڑی لگائی،حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس میں اتنی روشنی کی تھی کہ اس میں عورتیں تین میل تک چرخہ کات لیتی تھیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاء الحق"میں دیکھو۔