۱؎ پہلے سات سال اذان دینے پر آگ سے نجات کا وعدہ فرمایا گیاتھا،یہاں بارہ سال پر جنت کا وعدہ ہے کیونکہ جیسا اذان میں اخلاص ویسا ہی اس پر اجر،حضرت بلال کو ایک اذان پر وہ ثواب ملے گا جو دنیا بھر کے مؤذنوں کو عمربھرکی اذانوں پر نہ ملے۔اورہوسکتاہے کہ پہلے بارہ سال کی اذان پروعدۂ جنت فرمایا گیاہو،پھر رحمت کو وسیع فرماتے ہوئے سات سال کی اذان پروعدہ ہوگیا۔اس صورت میں یہ حدیث پہلی سے منسوخ ہے۔
۲؎ یعنی تکبیر کا ثواب اذان سے آدھا ہے کیونکہ تکبیر صرف مسجد والوں کے لیے ہے اور اذان سارے لوگوں کے لیے،نیزتکبیرمیں آسانی ہے،اذان میں مشقت اورثواب بقدرمشقت ملتا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ یہ ثواب بارہ سال کے مؤذن کے لئے خاص نہیں بلکہ جوبھی اخلاص سے اذان کہے ان شاءاﷲ یہ ثواب پائے گا،بلکہ اذان واقامت کا جواب دینے والابھی ان شاءاﷲ اس اجر کامستحق ہوگاجیسا کہ گزشتہ احادیث سے معلوم ہوا۔