۱؎ یعنی میں بھی اﷲ کی توحید اوراپنی رسالت پرگواہی دیتا ہوں۔خیال رہے کہ ہم توحیدورسالت کی گواہی سن کر دے رہے ہیں اورحضوردیکھ کر کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے رب کی ذا ت وصفات اورسارے عالم غیب کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے،نیزحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا علم ہمارے لیے علم حضوری کیونکہ رسالت آپ کا اپنا وصف ہے،نیزحضور کا کلمہ یہ بھی تھا"اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اﷲِ"اوریہ بھی کہ "اَشْھَدُاَنِّیْ رَسُوْلُ اﷲِ"میں اﷲ کا رسول ہوں،کبھی اس طرح کلمہ پڑھتے تھے،کبھی اس طرح۔اگر ہم کہہ دیں کہ میں رسول اﷲ ہوں تو کافرہوجائیں۔ایک کلمہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کلمۂ ایمان ہے اور ہمارے لیے کفر۔التحیات میں بھی ہم پڑھتے ہیں"اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ"حضورصلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایسےبھی پڑھتے تھے،اورکبھی "السلام علی"۔(ازمرقاۃ)