۱؎ یعنی کلمات اذان دوبارکہے جاتے تھے اوراقامت کے کلمات ایک ایک بار۔خیال رہے کہ یہ حدیث اگر صحیح ہوتو یامنسوخ ہے یا اس کی تاویل واجب۔مخالفین اس سے اپنا مدعا ہرگز ثابت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اذان کی دونوں شہادتوں میں ترجیع کے قائل ہیں جس سے یہ دونوں کلمے چارچاربارکہے جاتے ہیں۔اور یہاں آیا کہ اذان کے سارے کلمے دو دوبارکہے جاتے تھے،نیز وہ حضرات اقامت میں اولًاتکبیرچارباراورآخر میں دوبارکہتے ہیں مگر یہاں آیا کہ اقامت کے سارے کلمے ایک ایک بار ہیں،نیز اگرتکبیرکے کلمات ایک ایک بارہوتے تو صحابہ کرام حضورکے بعدیہ عمل چھوڑ نہ دیتے۔بیہقی شریف میں ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اقامت ایک ایک بارکہہ رہا ہے،آپ ناراض ہوئے اورفرمایا"اِجْعَلْھَا مَثْنٰی مَثْنٰی لَا اُمَّ لَكَ"یعنی تیری ماں مرے دو دو بار کہہ،اب دو ہی صورتیں ہیں:یا اس حدیث کو منسوخ مانو جس کی ناسخ اگلی حدیث ہےیا اس میں یہ تاویل کی جائے کہ یہ دائمی عمل نہ تھا بلکہ کبھی کسی عارضہ کی بناءپرہواتھایا اذان اوراقامت کے لغوی معنی مراد لئے جائیں جیسے پہلے عرض کیاجاچکاہے۔