۱؎ کہ قرآن شریف میں ہے "مِنۡۢ بَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَآء"۔اس سے معلوم ہوا کہ رب کے دیئے ہوئے نام بدلنابہت براہے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جوعیسائیوں کی پیروی میں اپنے کومحمڈن کہتے ہیں،اﷲ تعالٰی نے ہمارے دین کا نام"اسلام"رکھا اورہمارا نام"مسلمین"فرماتاہے:"ہُوَ سَمّٰىکُمُ الْمُسْلِمِیۡنَ"اور فرماتاہے:"اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللہِ الۡاِسْلٰم"۔
۲؎ یعنی وہ لوگ نمازعشاءکو عتمہ اس لئے کہتے ہیں کہ عَتَمْ کے معنے ہیں رات کی تیز تاریکی،اورنمازنورہے نورکو تاریکی کہنا براہے،نیزوہ لوگ اس وقت اپنی اونٹنیاں دوھتے تھے،تو اس کے معنی ہوئے اونٹ دوھنے کے وقت کی نماز،اس میں بھی عبادت کو عادت کی طرف نسبت ہے لہذا ممنوع۔