روایت ہے حضرت عمارہ ابن روبیہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص آگ میں ہرگز داخل نہ ہوگا جو سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے کی نمازیں پڑھتا رہے یعنی فجراورعصر ۱؎ (مسلم)
۱؎ اس کے دومطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ فجروعصرکی پابندی کرنے والا دوزخ میں ہمیشہ رہنے کے لئے نہ جائے گا،اگر گیا تو عارضی طورپر،لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ بعض لوگ قیامت میں نمازیں لے کر آئیں گے مگر ان کی نمازیں اہل حق کو دلوادی جائیں گی۔دوسرے یہ کہ فجروعصر کی پابندی کرنے والوں کو ان شاءاﷲ باقی نمازوں کی بھی توفیق ملے گی اورسارے گناہوں سے بچنے کی بھی کیونکہ یہی نمازیں زیادہ بھاری ہیں جب ان پر پابندی کرلی تو ان شاءاﷲ بقیہ نمازوں پربھی پابندی کرے گا،لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ نجات کے لئے صرف یہ دونمازیں ہی کافی ہیں باقی کی ضرورت نہیں۔خیال رہے کہ ان دونمازوں میں دن رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں،نیز یہ دن کے کناروں کی نماز یں ہیں،نیز یہ دونوں نفس پرگراں ہیں کہ صبح سونے کا وقت ہے اورعصرکاروبارکے فروغ کا،لہذا ان کا درجہ زیادہ ہے۔