۱؎ یعنی وقت مستحب کے اول نماز پڑھنا جیسا کہ بارہا عرض کیا جاچکا۔خیال رہے کہ بیان فضیلت میں حدیثیں مختلف ہیں۔بعض میں ہے کہ افضل عمل جہاد ہے،بعض میں ہے کہ بہترین عمل ماں باپ کی خدمت،مگران میں تعارض نہیں،کیونکہ مطلقًا افضلیت اول وقت نماز پڑھنے میں ہے،لیکن بعض ہنگامی حالات میں جہادیا خدمت والدین افضل ہوجاتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مختلف جوابات پوچھنے والوں کے لحاظ سے ہوں،کسی سے فرمایا کہ تیرے لئے جہاد افضل،کسی سے فرمایا تیرے لئے ماں باپ کی خدمت افضل،طبیب کا نسخہ مریض کی حالت کے لحاظ سے ہوتاہے۔
۲؎ ان کانام عبداﷲ ابن عمرابن حفص ابن عاصم ابن عمر ابن خطاب ہے،بڑے عابدوزاہد،پرہیزگارتھے مگر حافظہ کسی قدرکمزورتھا، ۱۷۱ھ میں وفات ہوئی۔ان کے بھائی عبید اﷲ ابن عمر بڑے ثقہ راوی تھے۔خیال رہے کہ یہ حدیث بہت اسنادوں سے مروی ہے،اس لئے حسن لغیرہ ہے(مرقاۃ واشعہ)