۱؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ موزوں کے صرف ظاہر پر مسح ہوگا نہ کہ تلے پرجیساکہ ہمارے امام صاحب کا قول ہے۔دوسرے یہ کہ اگر عقل حکم شرع کے خلاف ہو تو عقل مردود ہے،اور حکم شرع مقبول۔دیکھو حضرت علی کی عقل کہتی تھی کہ موزے کے نیچے مسح ہونا چاہیئے کیونکہ زمین سے وہی حصہ لگتا ہے اور گندگی سے وہی قریب رہتا ہے مگر حکم شرعی کے مقابل آپ نے اپنی رائے چھوڑدی۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ اگر دین رائے سے ہوتا تو میں پیشاب سےغسل واجب کرتا اور منی سے وضو کیونکہ پیشاب بالاتفاق نجس ہے اورمنی بعض علماء کے ہاں پاک بھی ہے۔اورمیں لڑکی کو لڑکے سے دگنی میراث دیتاکیوں کہ لڑکی کمزور ہے۔(مرقاۃ)