۱؎ چونکہ حضرت مغیرہ نے اس سے پہلے موزوں کا مسح نہ دیکھا تھا،اس لیے یہ سوال کیااور بزرگوں کی طرف بھول کی نسبت کرنا خود اپنی غلطی اور بھول ہے،اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم طریقۂ ادب بھول گئے۔اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ موزوں پر مسح قرآن شریف سے بھی ثابت ہے،کیونکہ"وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیۡنِ" میں ایک قرات اَرْجُلْ کے لام کے کسرہ سے بھی ہے اور عام قرات فتح سے۔مطلب یہ ہوا کہ موزے پہنے ہوں تو مسح کرو،نہ پہنے ہوں تو دھولو۔اورممکن ہے کہ یہاں اﷲ کا حکم سے مراد وحی خفی ہو۔