| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت میمونہ سے فرماتی ہیں کہ قریش کے کچھ لوگ حضور پر گزرے جو اپنی مری بکری کو گدھے کی طرح کھینچ رہے تھے ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی وہ بولے کہ یہ تو مردار ہے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور ببول کے پتے پاک کردیتے ہیں۲؎(احمدوابوداؤد)
شرح
۱؎ انکا یہ خیال تھا کہ قرآن پاک کا فرمان "حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃُ"مرادکی ہرچیزکو شامل ہے کہ نہ اس کا کھاناجائزاور نہ اس کی کسی چیز کا استعمال کسی طرح حلال،اس خیال پر وہ اسے پھینکنے کے لئے جارہے تھے۔معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کی سمجھ ناممکن ہے۔ ۲؎ خیال رہے کہ کھال کی پاکی کے لئے دھونا فرض نہیں لہذایہاں پانی سے مراد کچی دباغت ہے یعنی دھوکر سکھا لینا،اورببول کی پتے اور چھال سے مرادپکی دباغت ہے،اور ہوسکتا ہے کہ پانی سے مراد دھونا ہی ہو،اور حکم استحبابی ہویعنی کھال دھوکرپکانابہت بہترہے۔