| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اﷲ! فرمایئے تو ہم میں سے جب کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے؟تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو اسے مل دے پھر پانی سے دھو دے پھر اس میں نماز پڑھ لے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس حدیث سے چندمسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حیض کا خون نجاست غلیظہ ہے اس لئے اس کے دھونے میں مبالغہ کرنا چاہیئے اسی لئے سرکار نے دھونے سے قبل ملنے کا حکم دیا۔دوسرے یہ کہ ناپاک کپڑا دھلتے ہی پاک ہوجاتا ہے اس لئے سوکھنا شرط نہیں۔تیسرے یہ کہ نضح کے معنی چھڑکنایاچھینٹا دینا نہیں بلکہ دھونا ہیں کیونکہ حیض کا خون پانی کے چھینٹے سے پاک نہیں ہوتا،خوب دھویا جاتا ہے،لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ شیر خوار لڑکے کا پیشاب چھینٹے سے پاک نہیں ہوتا اس کا دھونا ضروری ہے کیونکہ وہاں بھی لفظ نضح ہی آرہا ہے۔