۱؎ یعنی اسے نہ مارو پیٹو کیونکہ یہ شرعی احکام سے ناواقف ہے۔اسلام سے پہلے لوگ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا اور سب کے سامنے ننگے ہونے کو عیب نہ جانتے تھے،نیز وہ مسجد کے آداب وغیرہ سے بے علم تھے۔معلوم ہوا کہ ناواقف پر سختی نہ کی جائے اسے نرمی سے سمجھایا جائے۔
۲؎ بعض نے فرمایا کہ سجل اور ذنوب کے ایک ہی معنی ہیں یعنی ڈول بڑاہویاچھوٹا۔بعض نے کہا ہے کہ سجل بڑے ڈول کو کہتے ہیں،اور ذنوب مطلقًا ڈول کو۔خیال رہے کہ یہ سجل س کے زبر،ج اور ل کے سکون سے ہے،س اور ج کے زیر اور ل کے شدّ سے سجل،بمعنی کاتب و منشی،یونہی ذنوب ذ کے زبر سے بمعنی ڈول اور ذ کے پیش سے ذنب کی جمع،بمعنے گناہ۔
۳؎ خیال رہے کہ زمین اگرچہ سوکھ کر پاک ہوجاتی ہے لیکن زمین کا دھونا بہت ہی بہتر ہے کہ اس سے گندگی کا رنگ و بوبھی جلدی جاتا رہتا ہے اور اس سے تیمم بھی جائز ہوجاتا ہے۔اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ ناپاک زمین بغیر دھوئے پاک نہیں ہوسکتی جیسا کہ امام شافعی فرماتے ہیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد دھلوانا اس لئے تھا کہ وقت نماز قریب تھا،زمین جلدی سوکھ کر پاک نہ ہوسکتی تھی،نیز مسجد میں پاکی کے علاوہ صفائی بھی چاہیئے اور یہ دھلنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔