| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو جنابت میں ایک بال کی جگہ چھوڑ دے جسے نہ دھوئے تو اسے آگ میں ایسا ایسا عذاب کیا جائے گا ۱؎ حضرت علی فرماتے ہیں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں تین بار۲؎ اسے ابوداؤد،دارمی نے روایت کیا مگر ان دونوں نے مکرر نہ کیا اسی لیئے دشمن ہوگیا میں اپنے سر کا۔
شرح
۱؎ یعنی عذاب پر عذاب ہوگا ایک تو ناپاک رہنے کا دوسرے تمام نمازیں برباد کرنے کا لہذا غسل میں بڑی احتیاط چاہیئے۔ناف،بغل،کان کی لو،ان میں بہت خیال سے پانی پہنچائے کہ یہاں اکثر بغیر توجہ پانی نہیں پہنچتا۔ ۲؎ یعنی زلفیں یاپٹے نہیں رکھواتا،ہمیشہ بال کٹواتا،منڈاتا رہتا ہوں۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورتمام صحابہ رضی اللہ عنھم نے سواء حج کے اور کبھی سر نہ منڈوایا،اس حدیث سے علی مرتضی کا ہمیشہ سر منڈانا ثابت نہیں ہوسکتا کہ آپ بال کٹواتے ہوں،اگر منڈواتے بھی ہوں تو منڈوانے کا جواز ثابت ہوگا،نہ کہ اس کی سنّیت،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سرمنڈوانا وہابیوں نجدیوں کی علامت قرار دیا،لہذا ہمیشہ ہی اورخصوصًا اس زمانہ میں سنی مسلمان سرمنڈانے کی عادت سے بچیں۔