| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انصار کی ایک بی بی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں بتایا کہ یوں غسل کریں پھر فرمایا کہ مشک کا ٹکڑا لے کر اس سے پاک کرو بولیں اس سے کیسے پاکی کروں فرمایا اس سے پاکی کرو بولیں اس سے کیسے پاکی کرو فرمایا سبحان اﷲ! اس سے پاکی کرو ۱؎ تو انہیں میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ خون کی جگہ ٹکڑا لگاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ خفیہ مسائل کے متعلق تعلیم اشاروں کنایوں سے چاہیئے،خصوصًا اجنبی عورتوں کے سامنے کہ ان بی بی صاحبہ کے بار بار پوچھنے پربھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملہ کی وضاحت نہ فرمائی۔مقصد یہ تھا کہ غسل کرنے کے بعد مشک کا ٹکڑایامشک میں بھیگے ہوئے کپڑے کا ٹکڑا وہاں پھیر لیں جہاں خون پہنچتا ہے تاکہ خون کی بوجاتی رہے۔بعض نسخوں میں مُمَسَّك بھی ہے یعنی مشک میں بسا ہوا کپڑا۔ ۲؎ سبحان اﷲ! اس سے حضرت عائشہ صدیقہ کی ذہانت معلوم ہوئی کیوں نہ ہو کہ مزاج شناس رسول ہیں،بڑی فقیہہ عالمہ ہیں۔