۱؎ ان کی کنیت ابو حمزہ ہے،یمنی ہیں،ازدی ہیں،محمد ابن علی باقر کے ہم نشین تھے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ یہ کوفہ میں رہتے تھے،اور نہایت ضعیف اور بہت وہمی تھے،عقیدۃً رافضی تھے چھپے ہوئے۔لہذا یہ حدیث ضعیف۔
۲؎ آپ محمد ابن علی یعنی(زین العابدین)ابن حسین ابن علی ہیں۔رضوان اﷲ علیم۔لقب امام باقر یعنی علم کو چیرنے والے،کنیت ابو جعفر،مدینہ منورہ کے عظیم الشان فقیہ اور بڑے محدث ہیں۔امام زین العابدین،عبداﷲ ابن عمر اور حضرت جابر سے بے شمار احادیث لی ہیں۔عظیم الشان تابعی ہیں،ولادت شریف ۵۶ میں ہوئی،۶۳ سال عمر شریف پائی، ۱۱۸ ھ میں مدینہ منورہ میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں مزار پر انوار ہے۔فقیر نے زیارت کی ہے۔
۳؎ حدیث لینے کے تین طریقے ہیں:ایک یہ کہ شاگرد پڑھے استاد سنے۔دوسرے یہ کہ استاد پڑھے شاگرد سنے۔تیسرے یہ کہ شاگرد حدیث کے الفاظ عرض کرکے پوچھے کہ کیا یہ حدیث آپ نے روایت کی ہے؟ استاد کہے ہاں،یہاں تیسری قسم کی روایت ہے۔مطلب یہ ہے کہ حضور نے وضوء کے اعضاءکبھی ایک ایک بار دھوئے،کبھی دو دو بار،کبھی تین تین بار۔