۱؎ یعنی کبھی کبھی نہ کہ ہمیشہ کیونکہ ابھی گزر گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دامن سے منہ شریف پونچھا،بعض میں یہ بھی ہے کہ اعضاء بالکل نہ پونچھے،بعض روایات میں ہے کہ وضوء کا پانی قیامت میں نور ہوگا۔غرض کہ احادیث میں تعارض نہیں کبھی وہ اعمال کئے کبھی یہ۔
۲؎ ترمذی نے ان دونوں حدیثوں کو ضعیف کہا،پہلی حدیث کو رشدابن سعداورعبدالرحمان ابن زیاد افریقی کی وجہ سے اور اس حدیث کو ابومعاذکی وجہ سے اور فرمایا کہ بعض لوگ اعضائے وضو پونچھنے کو مکروہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں عبادت کے اثر کو دور کردینا ہے اور وضوء کا پانی تسبیح بھی کرتا ہے۔واﷲ اعلم!