| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لےکر ٹھوڑی کے نیچے پہنچاتے جس سے اپنی داڑھی کا خلا ل کرتے اور فرماتے کہ میرے رب نے مجھے یوں ہی حکم دیا ہے ۱؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ داڑھی شریف کا یہ خلال چہرہ دھونے کے ساتھ تھا نہ کہ وضو کے بعد۔اور اَمْرِ رب سے مراد وحی خفی یعنی الہام ہے یا بواسطۂ جبریل۔معلوم ہوا کہ حضور پر وحی صرف قرآن ہی کی نہیں ہوئی اس کے علاوہ اوربھی ہیں۔خیال رہے کہ یہ امر وجوب کا نہیں بلکہ استحبابی ہے کیونکہ داڑھی کا خلال کسی کے ہاں فرض نہیں۔