۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ مسواک دھو کر کی جائے،اور کرنے کے درمیان بھی دوبارہ دھوئی جائے،اور دھو کر رکھی جائے۔دوسرے یہ کہ مسواک دوسرے سے دھلوانا بھی جائز ہے۔تیسرے یہ کہ دوسرے کی مسواک کرنا جائز ہے اگروہ اس سے ناراض نہ ہو۔چوتھے یہ کہ حضور کا لعاب شریف برکت کے لئے استعمال کرنا سنت صحابہ ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ تبرکًا یہ مسواک کرتیں،پھر دھوکر حضور کی خدمت میں پیش کرتیں،ورنہ عورتوں کے لئے مستحب یہ ہے کہ بجائے مسواک،سکڑا،مِسّی استعمال کریں،انگلی سے دانت صاف کریں،کیونکہ ان کے مسوڑے کمزور ہوتے ہیں۔