۱؎ کہ نہ کسی کو بلاوجہ مارے پیٹے نہ ان کی چغلی اور غیبت کرے حق پر مارنا عین دین ہے،جیسے مجرم سے قصاص لینا۔ضرورت شرعی کی بناء پر غیبت عین عبادت ہے جیسے راویان حدیث کے عیوب بیان کرنا حدیث کی تحقیق کیلیے،یہ چیزیں اس حدیث سے خارج ہیں۔
۲؎ یعنی اس کا برتاؤ ایسا اچھا ہو کہ لوگوں کو قدرتی طور پر اس کی طرف سے اطمینان ہو کہ یہ نہ ہمارے مال مارے گا،نہ تکلیف دے گا،یہ اطمینان مسلمین اﷲ کی بڑی نعمت ہے اسی لئے بزرگ فرماتے ہیں کہ کسی کی قوت ایمانی جانچنے کے لئے اس کے پڑوسیوں اور دوستوں سے پوچھو۔اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اسلام اور ایمان میں فرق ہے اسلام کا تعلق ظاہر اعضاء سے ہے اور ایمان کا قلب سے۔