| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں کچھ پائے تو اس پر مشتبہ ہوجائے کہ کچھ نکلایانہیں تو مسجد سے نہ جائے،تاآنکہ آواز سن لے یا بُو محسوس کرے ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یعنی اگرکوئی شخص مسجد میں جماعت سے نماز پڑھ رہا ہے کہ اس کے پیٹ میں گڑ گڑاہٹ ہوئی لیکن بو محسوس نہ ہوئی،ہوا کے نکلنے کا یقین نہ ہوا،یونہی شبہ ساہوگیاتوشبہ کا اعتبار نہ کرے،وہ باوضو ہے،نماز پڑھے جائے۔آواز سننے سے مراد ہے نکلنے کا یقین۔اس سےمعلوم ہوا کہ یقینی وضو مشکوک حدث سے نہیں جاتا،ہمیں یقین ہے کہ ظہر کے وقت ہم نے وضو کیا تھا مگر ٹوٹنے کا صرف شبہ ہے یقینی نہیں تو ہمارا وضو باقی ہے۔