| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جسے آگ پکائے اس سے وضو کرو ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہاں وضو لغوی معنی میں ہے،وضاءۃ سےمشتق ہے،بمعنی صفائی۔شرعی معنی مرادنہیں۔مطلب یہ ہے کہ آگ کی پکی چیزکھاکر ہاتھ دھونا اور کلی کرنا بہتر ہے۔پھل فروٹ کھانے کے بعد اس کی ضرورت نہیں،جیسا کہ اگلی احادیث سے ظاہر ہورہا ہے،نیز ایک بارحضور علیہ ا لسلام نے گوشت کھا کر ہاتھ دھوئے،کلی کی اور فرمایا آگ کی پکی چیز کا وضو یہ ہے،اس صورت میں یہ حدیث منسوخ نہیں،کھانا کھا کر ہاتھ دھونا مستحب ہے۔