روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے وضو کی نماز قبول نہیں یہاں تک کہ وضو کرے ۱؎(مسلم،بخاری)
۱؎ قبول سے مراد نماز کا جائز ہونا ہے اور وضو سے حقیقی اور حکمی دونوں وضو مراد ہیں یعنی تیمم بھی۔بے وضو کی نماز بغیر وضو یا تیمم جائز نہیں۔احناف کے نزدیک جسے وضو کے لائق پانی اورتیمم کے لائق مٹی نہ ملے وہ نماز قضا کرے،اور اگر قضا کا موقع پانے سے پہلے فوت ہوگیا تو اس پر گناہ نہیں۔یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ عمدًا بے وضو پڑھنا کفر ہے جب کہ نمازکو ہلکاجانتا ہو۔