۱؎ پنج کلیان وہ سرخ یا سیاہ گھوڑا ہے جس کے چاروں ہاتھ،پاؤں اور پیشانی سفیدہوں یہ بہت قیمتی خوب صورت اور طاقتور ہوتا ہے۔امت سے مراد سارے نمازی مسلمان ہیں کہ قیامت میں انکاچہرہ اور ہاتھ،پاؤں آثارِ وضوءسے چمکتے ہوں گے۔خیال رہے کہ اگرچہ پچھلی امتوں نے بھی وضوء کیا مگر یہ نور صرف امت محمدی پر ہوگا،نیز جو صحابہ نماز کی فرضیت سے پہلے وفات پا گئے،یااب مسلمانوں کے چھوٹے بچے،یااسلام قبول کرتے ہی فوت ہوجانے والے لوگ جنہیں نماز اور وضوکا وقت ہی نہ ملا ان پر بھی ان شاءاللہ یہ آثارِ وضوء ہوں گےکیونکہ وہ نمازیوں کے گروہ سے تو ہیں۔ہاں بے نمازی،فساق جنہوں نے بلاوجہ نماز نہ پڑھنے کی عادت ڈال لی وہ سزاءً اس سےمحروم ہوں گے۔خیال رہے کہ حضور کا اپنی امت کو پہچاننا اس نورپرموقوف نہ ہوگا کیونکہ آپ نیک کارنورانیوں کوبھی پہچانیں گے اورگنہگارظلمانیوں کوبھی۔
۲؎ غالبًا یہ آخری جملہ سیدنا ابوہریرہ کا ہے۔مطلب یہ ہے کہ اعضائے وضوءحدمفروض سے زیادہ دھوئے تاکہ روشنی اور چمک لمبی ہو اورممکن ہے کہ سرکار کا فرمان ہو۔مطلب یہ ہے اعضائے وضوء حد سے کم نہ دھوؤ،زیادہ کچھ دھل جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔خیال رہے کہ غرّہ چہرے کی سفیدی کو کہتے ہیں اور تحجیل ہاتھ پاؤں کی سفیدی کو۔چونکہ اکثر لوگ چہرہ دھونے میں بے احتیاطی کرتے ہیں کہ کنپٹی وغیرہ خشک رہ جاتی ہے لہذا اس کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔