| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب مسلمان بندہ یا مؤمن وضو کرنے لگتا ہے اپنا چہرہ دھوتا ہے توا س کے چہرے سے ہر وہ خطا نکل جاتی ہے جدھر آنکھوں سے دیکھا ہوپانی یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ ۱؎ پھر جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں سے وہ ہر خطا نکل جاتی ہے جسے اس کے ہاتھ نے پکڑا تھا پانی یا پانی کی آخری بوند کے ساتھ۲؎ پھر جب اپنے پاؤں دھوتاہے تو ہروہ خطا نکل جاتی ہے جدھر اس کے پاؤں چلے پانی یاپانی کے آخری قطرہ کے ساتھ حتی کہ گناہوں سے پاک و صاف نکل جاتاہے۳؎ (مسلم)
شرح
۱؎ اگرچہ انسان کان،ناک،منہ سب سے گناہ کرتا ہے مگر زیادہ گناہ آنکھ سے ہوتے ہیں۔جیسے اجنبی عورت یا غیر کا مال ناجائز نگاہ سے دیکھنا اسی لئے صرف آنکھ کا ذکر فرمایا ورنہ ان شاءاﷲ چہرے کے ہر عضو کے گناہ منہ دھوتے ہی معاف ہوجاتے ہیں۔ ۲؎ جیسے نامحرم کو چھولینا یا غیر کی چیز بلا اجازت ٹٹولنا کہ یہ سب گناہ صغیرہ ہیں۔ ۳؎ چلنے سے مراد ناجائز مقام پر جانا ہے۔خیال رہے کہ یہاں صرف ان اعضاء کے گناہوں کی ہی معافی مراد نہیں بلکہ سارے گناہ مراد ہیں حتی کہ دل و دماغ کے بھی گناہ،ان اعضاء کا ذکر اس لیئے ہے کہ زیادہ گناہ انہیں سے صادر ہوتے ہیں،لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث حضرت عثمان کے خلاف نہیں اورہوسکتا ہے کہ پہلی حدیث میں وضو کامل کا ذکر تھا جس سے سارے سنن و مستحبات ادا کیئے جائیں وہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے اور یہاں وہ وضو مراد ہے جو اتنا کامل نہ ہو اس سے صرف ان اعضاء کے گناہ ہی معاف ہوں گے،لہذا دونوں حدیثیں درست ہیں۔