۱؎ یہاں اچھے وضوءسے مرادسنتوں اورمستحبات کے ساتھ وضوءکرنا ہے اور خطاؤں سے گناہ صغیرہ کیونکہ گناہ کبیرہ تو بہ کے بغیر اور حقوق العباد صاحب حق کی معافی کے بغیر معاف نہیں ہوتےیعنی جو شخص اچھا وضوء کیا کرے تو اس کے سارے اعضاء کے گناہ اس پانی کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔
لطیفہ:ہم گنہگاروں کے وضوء کا غسالہ ماءمستعمل ہے جس سے دوبارہ وضو نہیں ہوسکتا اور اس کا پینا مکروہ،کیونکہ یہ ہمارے گناہ لے کر نکل جاتا ہے،مگر حضور کے وضوء کا غسالہ بلکہ پاؤں شریف کا دھوون متبرک ہے،کیونکہ وہ اعضاء طیبہ میں سے نور لے کر نکلا ہے،ہمارا غسالہ بہت سی بیماریاں خصوصًا مرگی پیدا کرتا ہے۔حضور کا غسالہ بیماریاں دور کرتا ہے،رب فرماتاہے:"اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ "آب زمزم حضرت اسماعیل کے پاؤں گا گویا دھوون ہے جس میں ہمارے حضور کی کُلی پڑی ہوئی ہے ہم سب کے لیئے شفا ہے۔