۱؎ یعنی سمجھ دار آدمی جس سے اچھی اور دینی بات سنے اس سے ہی لے لے،یہ نہ دیکھے کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ دیکھے کیا کہہ رہا جیسے کہ اپنی گمی چیز جس کے پاس سے ملے لے لی جاتی ہے،یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ کون ہے اور کیسا ہے۔خیال رہے کہ یہاں کلمۂ حکمت سے مراد اسلامی اورفقہی مسئلہ ہے۔یعنی اگر دین کی بات فاسق آدمی کہہ رہا ہے قبول کرلو لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق کو توریت پڑھنے سے منع فرمادیاکیونکہ توریت کے منسوخ احکام اب کلمۂ حکمت تھے ہی نہیں۔اسی طرح اب مسلمانوں کو کفار کی دینی تصنیفات دیکھنے کی اجازت نہیں ان کے پاس کلمۂ حکمت ہی نہیں۔