۱؎ اس میں خطاب صحابہ خصوصًا ان کے علماءسے ہے،یعنی تاقیامت مسلمان تمہارے اخلاق،افعال کی پیروی کریں گے کیونکہ تم نے بلاواسطہ مجھ سے فیض لیا ہے،شریعت میرے اقوال ہیں،طریقت میرے افعال،حقیقت میرے احوال،تم نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھے اور کانوں سے سنے۔خیال رہے کہ لفظ تابعی اس حدیث سے لیا گیا یعنی صحابہ کے کامل متبعین۔(مرقاۃ)
۲؎ یعنی بڑے بڑے کامل لوگ تمہاری شاگردی کرنے مدینہ منورہ کی طرف کھینچے ہوئے آئیں گے تو تم انہیں بے تامل علم سکھانا،عمل کی رغبت دینا یا میں تم کو ان کی خدمت کی وصیت کرتا ہوں اسے قبول کرو پہلے معنے اشعہ نے اور دوسرے مرقاۃ نے لیئے۔معلوم ہوا کہ دینی طلباءکی خدمتیں کرنا بہت ضروری ہےکیونکہ وہ حضور کے مہمان ہیں اسی لیئے اکثر علماء اپنے دینی شاگردوں کی بہت خدمت کرتے اورکراتے تھے۔