۱؎ اُمت سے مراد اُمتِ اجابت یعنی کلمہ گوہیں(قومی مسلمان)۔مجوس کا عقیدہ ہے کہ عالم کے خالق دو ہیں:خیر کا خالق یزدان اور شرکا اہرمن یعنی شیطان۔ایسے ہی قدر یہ اپنے کو اپنے اعمال کا خالق مانتے ہیں،لہذا مجوس سے بدتر ہوئے کہ وہ صرف دو خالق مانیں اور یہ لاکھوں۔
۲؎ یعنی ان کا مکمل بائیکاٹ کرو تاکہ وہ تنگ آکر توبہ کرلیں،بائیکاٹ بڑا مکمل علاج ہے رب تعالٰی نافرمان بیویوں کے بارے میں فرماتا ہے:"وَاہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ"۔خیال رہے کہ مؤمن کو بے دین سے ایسی ہی علیحدگی چاہیے کہ موت زندگی میں ان سے الگ رہے جان بچانا ہے تو سانپ سے بھاگو،ایمان بچاناہے تو بے دینوں سے بھاگو،قدریہ یا تو کافر ہیں یا گمراہ،بہرحال ان کی صحبت زہرقاتل ہے۔