۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں خسف اور مسخ کے حقیقی معنٰے ہی مراد ہیں اور واقعی آخر زمانہ میں بعض منکرین تقدیر قارون کی طرح زمین میں دھنسائے جائیں گے اور بعض ایلہ والوں کی طرح بندر اورسوربنیں گے۔خیال رہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تشریف آوری کے بعد اس قسم کے عام عذاب تا قیامت بند ہوگئے خصوصی عذاب آئیں گے،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"مَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ"کہ وہاں عمومی عذاب کی نفی ہے اور یہاں خصوصی کا ثبوت،بعض نے فرمایا کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر میری اُمّت میں مسخ اور خسف ہوتا تو قدریوں میں ہوتا۔(اللمعات)بعض نے فرمایا کہ قدریوں کو یہ عذاب قیامت میں ہوگا،کہ میدانِ محشر میں ان کے منہ کالے ہوں گے اور پلصراط سےگراکرجہنم میں دھنسائے جائیں گے(مرقاۃ)مگر پہلے معنے زیادہ قوی ہیں۔