| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک بندہ مؤمن نہیں ہوتا جب تک چارباتوں پر ایمان نہ لائے گواہی دے کے اﷲ کے سواکوئی معبود نہیں اور میں اﷲ کا رسول ہوں مجھے اﷲنےحق کےساتھ بھیجا اورمرنے اورمرے بعد اٹھنے ۱؎ اور تقدیر پر ایمان لائے۲؎ (ترمذی،وابن ماجہ)
شرح
۱؎ موت میں دہریوں کا رد ہے کہ وہ شخصی موت کے تو قائل ہیں مگر عالم کی مجموعی موت کے قائل نہیں اور اٹھنے میں منکرین قیامت کا رد ہے یعنی یہ بھی مانیں کہ سارے عالم کوفنا ہے اور یہ بھی کہ بعد موت سزاو جزا کے لیے اٹھنا ہے اورممکن ہے کہ موت سے مرادشخصی موت ہو اوراٹھنے سے قبر میں اٹھنا۔ ۲؎ کہ نہ جبریہ بن کر انسان کو مجبورمحض مانے اور نہ قدریہ بن کرتقدیر کا انکارکرے،اوراپنےکوقادرِمطلق جانے۔