Brailvi Books

مزارات اولیاء کی حکایات
46 - 48
 رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو صحرائے مدینہ ،باب المدینہ کراچی میں دفن کیا گیا ۔ وِصال شریف کے تقریباً 3سال 7مہینے 10دن بعدیعنی 25رجب المرجَّب ۱۴۳۰؁ھ بمطابق 18-7-2009 ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات باب المدینہ کراچی میں کئی گھنٹے تک موسلادھار برسات ہوئی جس کی وجہ سے مفتیِٔ دعوتِ اسلامی حافظ محمد فاروق عطاری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْباریکی قبر درمیان سے کُھل گئی ۔ جو اسلامی بھائی صحرائے مدینہ میں حفاظتی اُمورپر مُتَعَیَّنہیں اُنہوں نے صبح کے وقت دیکھا کہ قبر سے سبز رنگ کی روشنی نکل رہی ہے ۔عارضی طور پرقبر دُرُست کرنے والے اسلامی بھائیوں کا حلفیہ (یعنی قسم کھا کر) کچھ یوں بیان ہے کہ ہم نے دیکھا کہ تدفین کے تقریبًا ساڑھے تین سال بعد بھی مفتیِ دعوتِ اسلامیقدّس سرہ السّامی کی مبارَک لاش اور کفن اِس طرح سلامت تھے کہ گویا ابھی ابھی انتقال ہوا ہو ، تکفین کے وقت سر پر رکھا جانے والا سبز سبز عمامہ شریف آپ کے سرِمبارک پر اپنے جلوے لٹا رہا تھا ،عمامے شریف کی سیدھی جانب کان کے نزدیک آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی زُلفوں کا کچھ حصہ اپنی بہاریں دکھا رہا تھا، پیشانی نُورانی تھی اور چہرہ مبارک بھی قبلہ رُخ تھا ۔ مفتیِ دعوتِ اسلامی کی قبر مبارک سے خوشبوکی ایسی لَپٹیں آرہی تھیں کہ ہمارے مشامِ جاں مُعَطَّر ہوگئے ۔قبر میں بارش کا پانی اترجانے کی وجہ سے یہ امکان تھا کہ قبر مزید دھنس جائے اورسلیں مرحوم کے وجُودِ مسعود کو صدمہ پہنچائیں لہٰذا اس واقعے کے تقریباً دس روز بعد یعنی شبِ بدھ ۶ شعبانُ المعظم ۱۴۳۰ھ ( 28-7-2009) بَشُمُول مفتیان کرام و عُلَمائے عِظام ہزارہا اسلامی بھائیوں کاکثیر مجمع ہوا، غلامزادہ ابو اُسَید حاجی عُبَیدرضا ابنِ عطارؔمدنی  سلَّمہُ اللہ الغنی پہلے سے موجود شگاف کے ذریعے قبر کے اندر