تمہیں حاصل ہوجاتے۔‘‘ ( شواہدالحق ص۲۴۰)
مانگیں گے مانگے جائیں گے منہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ’’ لا‘‘ ہے نہ حاجت’’ اگر ‘‘ کی ہے
(حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۴) ہومدینے کا ٹکٹ مجھ کو عطا داتا پیا
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ غالباً1993ء کے موسمِ حج میں کسی وجہ سے سفرِ مدینہ نہ کرسکے تھے جس کا آپ دامت برکاتہم العالیہ کو بہت صدمہ تھا ،اپنی حسرتوں کااِ ظہار آپ دامت برکاتہم العالیہ نے ان اشعار میں بھی کیا ہے: ؎
کاش! پھر مجھے حج کا اِذْن مل گیا ہوتا اور روتے روتے میں ، کاش! چل پڑا ہوتا
مجھ کو پھر مدینے میں اس برس بھی بُلواتے آپ کا بڑا احساں مجھ پہ یہ شہا ہوتا
(وسائلِ بخشش، ص۱۷۲)
پھرجب شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّتدامت برکاتہم العالیہ 12ماہ کے سفر کے دوران مرکز الاولیاء لاہور میں تھے تویہ اِستغاثہ لکھا : ۱
ہو مدینے کا ٹِکَٹ مجھ کو عطا داتا پِیا آپ کو خواجہ پِیا کا واسِطہ داتا پیا
دولتِ دنیا کا سائل بن کے میں آیا نہیں مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنا داتا پیا
(وسائلِ بخشش، ص۵۰۶)
۱: مکمل کلام’’وسائلِ بخشش‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کے صفحہ 506 پر ملاحظہ کیجئے۔