۱۳۶۷ کے ذیقعدۃُ الحرام کی دوسری شب 12 بجکر 26 مِنَٹ پر بمطابِق6 ستمبر 1948 کوآپ وفات پاگئے۔
مدینے کا مسافِر ہند سے پہنچا مدینے میں قدم رکھنے کی بھی نوبت نہ آئی تھی سفینے میں
سبحٰنَ اللہ!مبارَک تخت کے تحت مانگی ہوئی دُعا کچھ ایسی قبول ہوئی کہ اب آپ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قِیامت تک حج کا ثواب حاصِل کرتے رہیں گے۔ خود حضرتِ صدرالشّریعہ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب بہارِ شریعت جلد اوّل حصّہ6 صَفْحَہ 1034پر یہ حدیثِ پاک نقل کی ہے:جو حج کیلئے نکلا اور فوت ہوگیا تو قِیامت تک اُس کے لئے حج کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کیلئے نکلا اور فوت ہوگیا اُس کیلئے قِیامت تک عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو جہاد میں گیا اور فوت ہوگیا اس کیلئے قِیامت تک غازی کا ثواب لکھا جائے گا۔ (مسند أبي یعلی ج۵، ص۴۴۱حدیث ۶۳۲۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت) (تذکرۂ صدر الشریعہ، ص۳۸)
مزارات پر کیا دعا مانگنی چاہئے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا حکایت سے یہ بھی دَرْس ملا کہ مزارات اولیاء پر جاکر’’ بیماری ،بے روزگاری ،قرضداری ،گھریلوناچاقی اوربے اولادی‘‘ جیسے دُنیاوی مسائل کے حل کی دعا کے ساتھ ساتھ’’ ایمان کی سلامتی، حَرَمَینِ طیبین کی بااَدَب حاضِری،وقتِ نَزع میں آسانی، قبروحشر میں کامیابی اور پُل صِراط پر ثابِت قَدَمی ‘‘جیسی اُخروی نعمتیں بھی مانگنی چاہئیں ،اِس ضِمن میں ایک سبق آموز حکایت ملاحظہ ہو:چنانچہ