Brailvi Books

مزارات اولیاء کی حکایات
35 - 48
علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرم کس طرح بیٹھ سکتے تھے لہٰذا فورًا تخت پر سے اُٹھ گئے۔ تخت کو یہاں کی مسجِد میں مُعَلَّق کردیا گیا۔ اس کے بعد حضرتِ سیِّدنا شاہِ عالم علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرمکیلئے دوسرا تخت بنایا گیا ۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے وِصال کے بعد اُس تخت کو بھی یہاں مُعلّق کردیا گیا۔اِس مقام پر دُعاقَبول ہوتی ہے۔
مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں 
	خلیفۂ صدرِ شریعت، پیرِطریقت حضرتِ علاّمہ مولانا حافظ قاری محمد مُصلحُ ا لدّین صِدّیقی القادِری علیہ رحمۃُ اللہِ القوی سے میں (سگِ مدینہ عفی عنہ)نے سنا ہے، وہ فرماتے تھے:مُصنّفِ بہارِ شریعت حضرتِ صدرُ الشّریعۃ مولیٰنا محمد امجد علی اعظمی صاحِب رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے ہمراہ مجھے مدینۃ الاولیا احمدآباد شریف (ھند)میں حضرت سیّد نا شاہ عالم  رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے دربار میں حاضِری کی سعادت حاصِل ہوئی، ان دونوں تختوں کے نیچے حاضرہوئے اوراپنے اپنے دِل کی دعائیں کرکے جب فارِغ ہوئے تو میں نے اپنے پیرومُرشِد حضرتِ صدرُالشریعہ  علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی  سے عرض کی:حُضور! آپ نے کیا دعا مانگی؟ فرمایا:’ ’ہر سال حج نصیب ہونے کی۔‘‘ میں سمجھا حضرت کی دُعا کا مَنشا یِہی ہوگا کہ جب تک زِندہ رہوں حج کی سعادت ملے ۔ لیکن یہ دُعا بھی خوب قبول ہوئی کہ اُسی سال حج کا قَصدفرمایا۔ سفینۂ مدینہ میں سَوار ہونے کیلئے اپنے وطن مدینۃ العلماء گھوسی( ضِلع اعظم گڑھ) سے بمبئی تشریف لائے ۔یہاں آپ کو نُمونیہ ہوگیا اورسفینے میں سوار ہونے سے قبل ہی