| مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے |
اللّٰہ تبارک وتعالیٰ قرآن پاک میں اپنے محبوب ،دانائے غیوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ کے اُن اَخلاقِ حسنہ کا بیان فرماتا ہے کہ جن کی بدولت خصوصیت کے ساتھ صحابہ کرام علیہم الرضوان، آپ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ْکے قریب رہنا اور اِرشاداتِ عالیہ پر عمل کرنا پسند کرتے تھے چنانچہ پارہ ۴ سُوْرَہ اٰلِ عمران آیت نمبر ۱۵۹ میں ارشاد ہوتا ہے:
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنۡتَ لَہُمْ ۚ وَلَوْ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الْقَلْبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنْ حَوْلِکَ ۪
ترجمہ کنز الایمان :توکیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لئے نرم دل ہو ئے اور اگر تندمزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے ۔
اس آیتِ کریمہ سے اندازہ لگائیے کہ اگر ہم اسلامی بھائیوں کے ساتھ بدسُلُوکی و بداَخْلاقی ، بات بات پر ان کی تَضْحِیک وتَذْلِیل کریں ، مشورہ لیں اور نہ ہی حوصلہ افزائی کریں تو ماتحت اسلامی بھائی کس طرح مدنی کاموں کو دُھن کے ساتھ کر سکے گا ۔