| مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے |
میں کر گزرنے کے لئے ہر وقت بیقرار رہتے۔لہٰذاحُسنِ اَخلاق کا اِختیار کرنا، تقسیم کاری کے عمل کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اِس کی اہمیت کے پیشِ نظر ثواب کی نیت سے چند آیات وروایات وحِکایات پیش ِ خدمت ہیں۔
سَرکارِ والا تَبَار،شَہنْشَاہِ اَبْرَار،مَکَّے مدینے کے سَرداربَعَطَائے پَرْوَردگار دَ و عَالَمْ کے مَالِک و مُخْتَارعَزَّوَجَلََّّّ وَصَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمْ کے اخلاقِ کریمہ کی تعریف و توصیف کرتے ہو ئے قرآنِ پاک پارہ ۲۹ سُوْرَہ قَلَمْ آیت نمبر ۴ میں ارشاد ہوتا ہے :وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾
ترجمہ کنزالایمان:اوربے شک تمہاری خُوبُو(خُلق)بڑی شان کی ہے
اس آیتِ مبارکہ کے تحت'' خزائن العرفان'' میں ہے کہ اُمُّ المُؤمِنِیْن حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا ''سَیِّدِ دو عَالَمْ،نُوْرِمُجَسّم،سَرَاپَا جُود و کَرم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمْ کاخُلْق قرآن ہے۔''
تیرے خُلق کو حق نے عظیم کہاتری خِلق کو حق نے جمیل کیا
کو ئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا تیرے خالقِ حُسن و اَدا کی قسم
(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتْ)