Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
322 - 415
فرماتے تھے ،کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہے وہ اپنا غصہ نہیں نکالتا اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ من مانی نہیں کرتااور اگر قیامت کا دن نہ ہوتا تو تم کچھ اور ہی دیکھتے۔''

    امیر المؤمنین، مولائے مشکل کشاحضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایک دن نمازِ فجر سے سلام پھیرا، اس وقت آپ کو کوئی رنج تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپناہاتھ اُلْٹ پُلْٹ کر رہے تھے پھرارشاد فرمایا: '' میں نے صحابۂ کرام علیہم الرضوان کو دیکھا ہے، لیکن آج ان جیسا کوئی نظر نہیں آتا، وہ اس حال میں صبح کرتے کہ رنگ زرد ہوتا، بال بِکھرے ہوتے اورچہرہ غُبار آلود ہوتا،(رونے کی وجہ سے) ان کی آنکھوں کی درمیانی جگہ بکریوں کی رانوں کی طرح ہوتی، وہ حالتِ سجدہ وقیام میں قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہوئے رات گزاردیتے، اپنی پیشانی اور پاؤں پر باری باری زورڈالتے، صبح ہوتی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتے ہوئے اس طر ح کانپتے جس طر ح آندھی کے دن درخت ہلتا ہے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے حتیٰ کہ ان کے کپڑے گیلے ہوجاتے۔ اللہ عَزَّوَجل کی قسم ! گویا میں ایسی قوم کے ساتھ ہوں جو غفلت میں رات گزارتے ہیں پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا حتیّٰ کہ ابنِ ملجم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کردیا۔''

     امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمر فارو ق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب قرآن مجید کی کوئی آیت سنتے تو خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گر پڑتے اور کئی دن تک آپ کی عیادت کی جاتی۔ ایک دن آپ نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا:'' کاش ! میں یہ تنکا ہوتا، کاش! میرا ذکر نہ ہوتا ، کاش !مجھے میری ماں نہجَنْتِی، کاش! مجھے بھلادیاگیاہوتا۔''

     حضرت سَیِّدُناعلی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما( یعنی امام زین العابدین) جب وضو کرتے تو آپ کا رنگ زرد ہو جاتا، آپ سے گھر والے پوچھتے:''وضو کرتے وقت آپ پر یہ کیفیت کیوں طاری ہو جاتی ہے ؟''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے:''کیا تم جانتے ہو کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہونے کا ارادہ کررہا ہوتا ہوں ؟''

     منقول ہے، عرفہ کے دن حضرت سَیِّدُنا فضیل ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ گمشدہ بچے کی دل جلی ماں کی طرح رو رہے تھے جبکہ دیگر لوگ دعامانگ رہے تھے یہاں تک کہ جب سورج غروب ہونے لگا توآپ نے اپنی داڑھی کو پکڑا پھر آسمان کی طرف سر اٹھایا اور عرض کی:'' اگر تو مجھے بخش بھی دے تب بھی مجھے تجھ سے حیاآتی ہے۔'' پھر لوگو ں کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

     حضرت سَیِّدُناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ڈرنے والے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا توآپ نے فرمایا:''ان کے دل خوف کی وجہ سے زخمی ہوتے ہیں اور آنکھیں روتی ہیں، وہ کہتے ہیں:''ہم کیسے خوش ہو سکتے ہیں حالانکہ موت ہمارے پیچھے ہے ،قبر ہمارے سامنے ہے، قیامت ہمارے وعدہ کی جگہ ہے، جہنم کے اوپر ہمارا راستہ ہے اورہمیں اپنے ربِّ عظیم کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔''