میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمتِ فیض دَرْجَت میں سُوال ہوا:اگر کوئی قادِیانی مسجِد کے خرچ کے واسِطے روپیہ وغیرہ دے یا کسی طالبِ علم یا اور شخص کو مکان پر بُلا کر کھاناکِھلائے یا بھیج دے ان دونوں صورتوں میں کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ یا وہ روپیہ مسجِد میں لگانا کیسا ہے؟ بَیِّنُوْا تُوْجَرُوا(بیان فرمائیے اجر پائیے )الجواب:نہ وہ رُوپے لئے جائیں ، نہ کھانا کھایا جائے، اور اُس کے یہاں جا کر کھانا سخت حرام ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
( فتاوٰی رضویہ ج 24 ص 328)
( فتاوٰی رضویہ ج 24 ص 328)مگر یہ یاد رہے کہ بِلا دلیلِ شَرعی مَحض اَٹکل پَچُّوسے یا فَقَط شک کے سبب کسی مسلمان کو مُرتَد نہیں کہہ سکتے ۔