شاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن نے حُسامُ الحَرَمین میں گستاخانِ رسول کی گستاخانہ عبارات کی شرعی گرفت فرما کر گستاخوں کی تکفیر فرمائی ہے۔ اس کتاب پر حرمینِ طیِّبَین کے اُس دَور کے جیِّد علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام کی تصدیقات موجود ہیں۔اَلْحَمْدُ للہ میں نے بھی 19 ذیقعدہ 1419ھ کو اِس پر چند تائیدی سُطور لکھی ہیں ۔ جو دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ سے شائِع ہونے والی اِس کتاب میں برابر شامِل کی جاتی ہیں۔ دعوتِ اسلامی سے وابَستہ اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کی خاطر جاری کئے جانے والے ''مَدَنی اِنعامات ''میں ہر سال کم از کم ایک بار حُسامُ الْحَرَمین کا مُطالَعَہ کرنے کی بھی ترغیب موجود ہے ۔ دعوتِ اسلامی سے وابَستہ پڑھے لکھے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو گا جس نے کم از کم ایک بار حُسام ُالحرمین کا مطالَعَہ نہ کیا ہو۔''حُسامُ الحَرَمین ''پر کی جانے والی تائید بنام''مَدَنی التجاء''کی نَقل مُلاحَظہ فرمایئے :