Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
387 - 692
جواب:''اصرار''کا معنیٰ ہے مضبوط باندھنا ،مضبوط ہو جانا، کسی کے ساتھ ایسا وابستہ ہونا کہ اس سے جدا نہ ہو سکنا
(تفسیرنعیمی ج4 ص193)
'' گناہ پر اصرار کرنا''کے معنیٰ کے مُتَعَلِّق مختلف اقوال ہیں:شیخِ مُحَقِّق ، محقّق علی الاطلاق ، خاتم المحدِّثین ، حضرتِ علامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی فر ما تے ہیں : بعض علماء ِکرام نے فرمایاکہ:اِصرار کی حد یہ ہے کہ گناہ کو بار بار کرے اور دل میں بے باکی محسوس کرے
(اشعۃ اللّمعات ج2 ص 258 )
 فتاوٰی شامی میں ہے:اصرار کی حد یہ ہے کہ وہ گناہ کی پرواہ کئے بِغیر بار بار صَغیرہ کا ارتِکاب کرے ۔
(فتاوی شامی ج3 ص 520 )
 جوگناہِ صغیرہ کیا اس سے توبہ کر لینے سے اصرار سے باہَر نکل آتا ہے چُنانچِہ امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ حرم، شافِعِ اُمَم،نبیِّ مُکَرَّم،نُورِ مُجَسَّم، رسولِ اکرم، شَہَنْشاہِ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کاارشادِ معظَّم ہے: جس شخص نے استِغفار کر لیا اس نے اپنے گناہ پر اصرار نہیں کیا اگرچِہ وہ دن میں ستَّربار گناہ کرے۔
(سُنَنُ ابی داؤد  ج 2 ص 120 ۔
Flag Counter