فتاوٰی شامی میں ہے:اصرار کی حد یہ ہے کہ وہ گناہ کی پرواہ کئے بِغیر بار بار صَغیرہ کا ارتِکاب کرے ۔
جوگناہِ صغیرہ کیا اس سے توبہ کر لینے سے اصرار سے باہَر نکل آتا ہے چُنانچِہ امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ حرم، شافِعِ اُمَم،نبیِّ مُکَرَّم،نُورِ مُجَسَّم، رسولِ اکرم، شَہَنْشاہِ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کاارشادِ معظَّم ہے: جس شخص نے استِغفار کر لیا اس نے اپنے گناہ پر اصرار نہیں کیا اگرچِہ وہ دن میں ستَّربار گناہ کرے۔
(سُنَنُ ابی داؤد ج 2 ص 120 ۔