جواب:علمِ دین کو گھٹیا جانتے ہوئے ایسا کہناکفر ہے۔ حضرتِ مُلّا علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں:اگر کسی نے کہا:''میں کیوں عِلم سیکھوں!''یہ کُفرِیّہ قول ہے جبکہ کہنے والے نے عِلْم کو حقیر سمجھایا اُس نے اِعتِقاد کیا کہ اسے عِلم کی کوئی حاجت نہیں۔
(منح الروض ص472)
یہاں''علم''سے مُرادعلمِ دین ہے۔ جو لوگ علمِ دین کو اَھَمِّیَّت نہیں دیتے اُن کیلئے اِس میں عبرت ہی عبرت ہے ۔
کون کون سے مسائل کس کس پر سیکھنا فرض ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!افسوس! آج کل صِر ف و صِرف دنیاوی عُلوم ہی کی طرف ہماری اکثریَّت کا رُجحان ہے علمِ دین کی طرف بَہُت ہی کم مَیلان ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے :
طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ .
یعنی عِلم کا طَلَب کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت )پرفرض ہے
( سُنَن ابن ماجہ ج1 ص 146 حدیث 224)
اِس حدیثِ پاک کے تحت میرے آقا اعلیٰ حضرت،