Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
317 - 692
 جِنّ غیب سے نِرے یعنی مکمَّل طور پر)جاہِل ہیں۔ ان سے آئندہ کی بات پوچھنی عَقلاً حماقت اور شرعاً حرام اور ان کی غیب دانی کا اِعتِقاد ہو تو(یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ جِنّ کو علمِ غیب ہے یہ )کُفرہے۔
(فتاویٰ افریقہ،ص178)
جِنّات کو ایک سال تک حضرتِ سیِّدُنا سُلَیمان عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی وفاتِ ظاہِری کا علم نہ ہو سکا۔ چُنانچِہ اللہُ عالِمُ الْغَیب جلَّ جَلَا لُه، کی سچّی کتاب قراٰنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
 فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنۡ لَّوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ الْغَیۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِی الْعَذَابِ الْمُہِیۡنِ ﴿14﴾
ترجَمۂ کنز الايمان :پھر جب سليمان (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)زمين پر آيا، جنوّں کی حقيقت کُھل گئی۔ اگر غيب جانتے ہوتے تو اِس خواری کے عذاب ميں نہ ہوتے ۔ (پ22 سبا14)
 مذکورہ بالا آیتِ کریمہ سے ثابِت ہوا کہ جِنّات علمِ غیب نہیں جانتے۔
وفاتِ سُلَیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃ والسَّلام کی حِکایت
سُوال:اِس آیتِ کریمہ میں حضرتِ سیِّدُنا سُلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام اور جنّات کے جس واقِعہ کی طرف اشارہ ہے اگروہ بھی
Flag Counter