جواب:بعض اوقات تو یہ نِرا ڈھونگ ہوتا ہے جو کہ حُبِّ جاہ اور سستی شہرت کے بھوکے مردوعورت عوام کو اپنی طرف متوجِّہ کرنے اور بھیڑ جمانے کیلئے ایسا کرتے ہیں اور بسا اوقات یہ شریر جنّات ہوتے ہیں جوکہ کسی انسان پر غلبہ پا کر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَيہِ رَحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:''یہ(یعنی شریر جِنّات)سخت جھوٹے کذّاب ہوتے ہیں ، اپنا نام کبھی شہید بتاتے ہیں اور کبھی کچھ۔ اِس وجہ سے جاہِلانِ بے خِرَد (یعنی بے عَقل جاہِلوں)میں ''شہیدوں کا سر پر آنا''مشہور ہو گیا،ورنہ شُہَدائے کرام (اوراولیائے عظام)ایسی خبیث حرکات سے پاک و صاف ہوتیہیں۔''