پاک نرالا سچّا مالِک ہے۔ اس کے کام ، اس کے احکام میں کسی کو مجالِ دَم زَدَن(دم مارنے کی جرأت)کیامعنیٰ!کیا کوئی اس کا ہَمسر(ہم پلّہ)یا اس پر افسر ہے جو اس سے''کیوں اور کیا''کہے !مالِک علَی الاِطلاق(یعنی مالکِ مطلق،ہر کام کا مالک و مختار)ہے، بے اِشتِراک ہے(شرکت سے پاک)، جو چاہا کیا اور جو چاہے کریگا ۔ ذلیل فقیر بے حیثیت حقیراگر بادشاہِ جبّار سے اُلجھے تو اس کا سر
کھجایا ہے، شامت نے گھیرا ہے۔ اس(بادشاہ سے الجھنے والے)سے ہر عاقِل(یعنی عقلمند)یہی کہے گا:اَو بد عقل بے ادب !اپنی حد پر رہ ۔ جب یقینا معلوم ہے کہ بادشاہ کمالِ عادِل اور جمیعِ کمالِ صِفات میں یکتا و کامل ہے تو تجھے اس کے احکام میں دَخل دینے کی کیا مجال ! ؎