ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں۔ ( پ26 ق16)
صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں:یہ کمالِ علم کا بیان ہے کہ ہم بندے کے حال کو خود اس سے زیادہ جاننے والے ہیں ،''وَرِید''وہ رَگ ہےجس میں خون جاری ہو کر بدن کے ہر ہرجُزو(یعنی حصّے)میں پہنچتا ہے، یہ رگ گردن میں ہے۔ معنیٰ یہ ہیں کہ انسان کے اَجزاء ایک دوسرے سے پردے میں ہیں مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کوئی چیز پردے میں نہیں۔
(خَزَائِنُ الْعِرْفَان ص 826)
''اللہ ''کا اشارہ گونگے بہرے کس طرح کریں؟
سُوال:آج کل گونگے بَہروں کو تربیّت دینے والے''اللہ'' کا اشارہ آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھوا کر سکھاتے ہیں یہ کہاں تک دُرُست ہے؟
جواب:یہ طریقہ قَطعاً (قَطْ۔عاً)غَلَط ہے۔ ان بے چاروں کے ذِہن میں یِہی نظریات بیٹھ جاتے ہوں گے کہ''ا للہ تعالیٰ اوپر ہے یا اوپر