کسی محتاج نے بھی اس کے کپڑوں سے برکت نہ لی۔
۲۔ ایک اور پیشن گوئی آسمانی بیوی کی تھی اپنی چچا زاد بہن احمد ی کو لکھ بھیجا کہ اپنی بیٹی محمدی بیگم میرے نکاح میں دے دے اس نے صاف انکار کیا اس پر طمع دلائی پھر دھمکیاں دیں پھر کہا کہ وحی آگئی کہ زوجنٰکھا ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا اور یہ کہ اس کانکاح اگر تو دوسری جگہ کرے گی تو ڈھائی یا تین برس کے اندر اس کا شوہر مرجائے گامگر اس خدا کی بندی نے ایک نہ سنی ، سلطان محمد خان سے نکاح کردیا وہ آسمانی نکاح دھرا ہی رہا نہ وہ شوہر مرا کتنے بچے اس سے ہوچکے اور یہ چل دئیے ۔