Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
82 - 199
مقید
(Limited)
کرنے سے وہی سابقہ برائیاں لوٹ آئیں گی، حالانکہ اﷲ تعالیٰ نے اسے مطلق
 (Unlimited)
فرمایا ہے۔ محقق علی الاطلاق -رحمۃ اﷲ علیہ- نے "فتح القدیر" میں فرمایا :"اگر بیع کو مبیع اور ثمن
(Estimated Cost)
دونوں کی تملیک
(Ownership)
کا سبب بنا کر جائز قرار نہ دیا جاتا تو انسان اس بات کا محتاج ہوجاتا کہ یاتو اپنی ضرورت کی چیزیں چھین لیتا یا بھیک مانگتا ،ورنہ صبر کرتا یہاں تک کہ مرجاتا، مگر چونکہ ان سب باتوں میں کھلا فساد
(Incorrectness)
ہے، اور بھیک مانگنے میں جو رسوائی و خواری ہے وہ ہر آدمی برداشت نہیں کرسکتا؛ کیونکہ یہ عمل بندے کو رسوا
 (Disgrace)
کردیتا ہے، لہٰذا اس بیع کو جائز قرار دینے میں غریب مسلمانوں کی بقا اور احسن طریقے سے ان کی حاجات کی تکمیل ہے"۔
 ("فتح القدیر"، کتاب البیوع، ج۵، ص۴۵۵،)
    یہ تو معلوم ہی ہے کہ شرعِ مطہَّر نے بیع کے سلسلے میں کوئی حد مقرر نہیں فرمائی، بلکہ مطلق خرید و فروخت کو حلال فرمایا ہے، اور بیع کا مطلب ایک مال کو دوسرے مال سے بدلنا
(Exchange)
ہے، اور مال کی تعریف تو آپ پڑھ چکے ہیں کہ" مال وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت مائل ہو اور وقتِ ضرورت کے لئے اسے جمع کرنا ممکن ہو"، اور یہ تعریف یقینا ان چیزوں پر پوری اترتی ہے جو ہم نے تمہیں بتائیں یعنی جن کی خرید و فروخت دھیلے اور چَھدام وغیرہ کے بدلے میں ہوتی ہے۔
Flag Counter