شریعت میں حرام ہے، یا ڈاکہ مارے مگر اس پر بھی شریعت میں سخت سزا ہے ،یا سبزی فروش تاجروں اور پانی بیچنے والے بہشتیوں کو حکم دیں گے کہ ان فقراء کی تمام ضروریات کی اشیا ء انہیں مفت دے دیا کریں؛کیونکہ ان اشیاء کی قیمت ایک پیسہ سے کم ہے اور جس چیز کی قیمت ایک پیسہ سے کم ہو وہ مال نہیں ہوتا اور اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے، لہٰذا انہیں مفت دے دیا کریں، اس بات پر تو تاجر بالکل راضی نہ ہونگے اور اگر راضی ہو بھی جائیں تو ایک فقیر کو دوسرے پر ترجیح حاصل نہیں۔
لہٰذا اگر تاجر ہر فقیر کو اسکی ضرورت کی چیزیں مفت دے دیا کریں تو ان کی تجارت تو بے فائدہ ہوجائے گی، لہٰذا ثابت ہوا کہ ہمارے پاس اس بیع (ایک پیسہ سے کم کی خریدو فروخت) کو جائز قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اور بے شک قرآن پاک نے اسے جائز قرار دیتے ہوئے مطلق ارشاد فرمایا کہ :