| کرنسی نوٹ کے شرعی احکام |
ہیں کہ اس مسئلہ کے غریب ہونے کی و جہ یہ ہے کہ صرف" ظہیریہ" ہی نے اس مسئلہ کو ذکر کیا ہے، اسی لئے علماء متاخرین نے اس مسئلہ کو" ظہیریہ "ہی کی طرف منسوب کیا ہے۔
("رد المحتار"، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۰ )"قنیہ" کے مسئلہ کا دلیل نقلی سے جواب
اور آپ جانتے ہیں کہ" قنیہ" کے پیسے والے مسئلہ کو اتنے علماء نے بھی نقل نہیں کیا جتنے علماء نے" ظہیریہ" کے مسئلہ کو نقل کیا ہے اور" قنیہ"،"فتاویٰ ظہیریہ" کے مقابلے کی کتاب بھی تو نہیں ہے، پھر اس سے غرابت کیسے دور ہوسکتی ہے۔ کاش! یہ مسئلہ صرف غریب ہی ہوتا تو حدیثِ شاذ
(Irregular Tradition)
کی طرح ہوتا مگر یہ تو کتبِ مشہورہ اور قوا عدِ شرع کے خلاف ہونے کی وجہ سے حدیثِ منکر
(Denied Hadith)
کی طرح ہے ،پہلی وجہ غرابت یعنی کتبِ مشہورہ کی مخالفت کے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ" فتح القدیر"، "شرنبلالی"، "طحطاوی" اور" رد المحتار" وغیرہ قابلِ اعتماد کتابوں میں ہے کہ" اگر کوئی شخص کاغذ کا ایک ٹکڑا ہزار روپے میں بیچے تو جائز ہے"۔
("فتح القدیر"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۶، ص۳۲۴،)(جبکہ" قنیہ "میں خواہ مخواہ یہ شرط لگادی ہے کہ وہ مال کم از کم ایک پیسے کا ہو) اور اﷲ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے کہ مزید یہ کیا کہ کاغذ پر آخر میں" تائے وحدت "کا